نئی دہلی:21/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)دہلی کے وزیر اعلی اروند کجریوال نے کل اپنے اوپر مرچ پھینکے جانے کے پیچھے بی جے پی کا ہاتھ بتایا ہے۔ کجریوال نے کہا کہ گزشتہ 2 سال میں ان پر 4 حملے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ لوگ انہیں مروانا چاہتے ہیں۔ کجریوال پر یہ حملہ دہلی سیکرٹریٹ کے اندر اس وقت ہوا جب وہ اپنے چیمبر سے باہر کھانے کے لئے نکل رہے تھے۔ ادھر کجریوال پر مرچ پاؤڈر پھینکے جانے کی مخالفت میں عام آدمی پارٹی نے آج بی جے پی ہیڈ کوارٹر کے باہر مظاہرہ بھی کیا ہے ۔ پارٹی کا الزام ہے کہ بی جے پی دہلی پولیس کے ساتھ مل کر اس طرح کے حملوں کی سازش کر رہی ہے۔ اس سے پہلے آپ کے سینئر لیڈر اور دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے الزام لگایا کہ وزیر اعلی اورآپ کنوینر اروند کجریوال کو دہلی کی عوام کے مفاد میں کام کرنے سے روکنے کے لئے بی جے پی ان کا قتل کرانا چاہتی ہے۔ سسودیا نے منگل کو کجریوال پر مرچ پاؤڈر کے ذریعہ کئے گئے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حملہ آور بی جے پی کا کارکن ہے۔انہوں نے کہا کہ کجریوال کو کام کرنے سے روکنے کے تمام ہتھکنڈے ناکام رہنے کے بعد بی جے پی وزیر اعلی کا قتل کرانا چاہتی ہے۔ کل کے واقعہ اسی سازش کا حصہ ہے۔ سسودیا نے منگل کو حملے کے وقت دہلی سیکرٹریٹ میں بی جے پی کے ایک لیڈر کی موجودگی کی بات سامنے آنے پر اس کی بھی جانچ کرانے کی مانگ کی۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آور کے فیس بک کے صفحے پر وزیر اعلی کجریوال کے لئے نامناسب زبان استعمال کی گئی ہے ۔ اس فیس بک کے صفحے پر یہ سلسلہ گزشتہ ایک ماہ سے چل رہا تھا۔ اس پیج پر بی جے پی کے رہنماؤں کی تصویر ہے۔ کجریوال پر مرچ سے حملہ کرنے والے شخص نے کہا کہ وہ میرا ٹارگیٹ ہے اور میں اسے جان سے مارنا چاہتا ہوں ۔ سسودیا نے کہا کہ وزیر اعلی پر حملے کے معاملے میں لیفٹیننٹ گورنر کی جانب سے کوئی بیان نہیں آیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کجریوال کو فون کرکے کہا کہ آپ پولیس میں شکایت درج کرا دیں۔ انہوں نے پولیس کی تحقیقات کے طریقے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس طرح پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، اس سے صاف ہوتا ہے کہ پولیس کی طرف سے بی جے پی کے اعلیٰ قیادت کے ساتھ دوستی نبھائی جا رہی ہے، کیونکہ پورے واقعے کو دیکھنے سے لگتا ہے کہ بی جے پی کے سینئر لیڈران کو اس حملہ کا علم تھا ۔